ایسا مکتب بھی کوئی بنایا جاۓ!!!
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی
By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد ,پنجاب, پاکستان

ایسا مکتب بھی کوئی بنایا جاۓ
سلیقہ محبت کا جہاں سکھایا جاۓ

کس قدر تلخ ہے محبت میں دھوکہ کھانا
تم کہتے ہو اب بھی مسکرایا جاۓ

ضبط نے سنبھال رکھا ہے آنکھ کا پانی
کب تلک خود کو مگر آزمایا جاۓ

بھٹکے تیری گلی کے کہاں تک پہنچے
حال ان کا بھی ذرا سنایا جاۓ

اچھا لگتا ہے تیرے دست ء دعا میں رہنا
مگر یہ کیا کہ اجاڑ کر بسایا جاۓ

کیا یہ ممکن نہیں اے دوست کہ اب بھے
روٹھی بہاروں کو پھر منایا جاۓ

دل ہے مصر اب بھی اسی پر عنبر
چاہا جاۓ اسے اپنا بنایا جاۓ

Rate it: Views: 13 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 10 Apr, 2017
About the Author: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی

Visit 682 Other Poetries by سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Wah
Bohat khoobsurat
Behad umda
By: Sheraz, Faisalabad on Apr, 18 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.