دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا
Poet: obaidullah Aleem
By: hammad, khi

دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا
تم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیا

آپ کے گھر میں ہر طرف منظر ماہ و آفتاب
ایک چراغ شام اگر میں نے جلا لیا تو کیا

باغ کا باغ آپ کی دسترس ہوس میں ہے
ایک غریب نے اگر پھول اٹھا لیا تو کیا

لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو
موج ہوائے رنگ میں آپ نہا لیا تو کیا

اب کہیں بولتا نہیں غیب جو کھولتا نہیں
ایسا اگر کوئی خدا تم نے بنا لیا تو کیا

جو ہے خدا کا آدمی اس کی ہے سلطنت الگ
ظلم نے ظلم سے اگر ہاتھ ملا لیا تو کیا

آج کی ہے جو کربلا کل پہ ہے اس کا فیصلہ
آج ہی آپ نے اگر جشن منا لیا تو کیا

لوگ دکھے ہوئے تمام رنگ بجھے ہوئے تمام
ایسے میں اہل شام نے شہر سجا لیا تو کیا

پڑھتا نہیں ہے اب کوئی سنتا نہیں ہے اب کوئی
حرف جگا لیا تو کیا شعر سنا لیا تو کیا

 

Rate it: Views: 9 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 14 Mar, 2017
About the Author: Owais Mirza

Visit Other Poetries by Owais Mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.