ماضی، حال اور مستقبل نہیں دیکھا
Poet: Muhammad Javed Khadim
By: Muhammad Javed Khadim, Usta Muhammad Balochistan

ماضی، حال اور مستقبل نہیں دیکھا
اُج ہی دیکھا کل نہیں دیکھا

رستے جدا ایک منزل، نہیں دیکھا
زیست و مرگ کا وسل نہیں دیکھا

تتلیاں پھولوں سے ملنے نکلی تھیں
لیکن گلزار میں گل نہیں دیکھا

جاوید سمندر میں دریا گرتے دیکھے
صحرا میں جل تھل نہیں دیکھا

نوازش رب کا مقرر وقت نہیں
جاوید وقت دعا گل نہیں دیکھا

غلط کہ کوئی رستہ نہیں جاوید
توبہ کا دروازہ مقفل نہیں دیکھا

زمانے کی ٹھوکریں کھااتا ہوا اُیا جاوید
تیرے در سوا اُسودہ دل نہیں دیکھا

Rate it: Views: 21 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 08 Mar, 2017
About the Author: Muhammad Javed Khadim

نام : محمد جاوید خادم پیدائش : ۰۳ اکتوبر ۱۹۸۲ شہر : اوستہ محمد ضلع جعفرآباد بلوچستان۔ تعلیم : بی اے (بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ) پیشہ : سرکاری ملازمت اع.. View More

Visit 60 Other Poetries by Muhammad Javed Khadim »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.