قصور
Poet: Syed Muhammad Ziauddin By: Syed Muhammad Ziauddin, Karachiاے غمِ دل تو ہی بتلادے میراتھا کیا قصور
نہ مزا جینے میں باقی ہے نہ مرجانے میں ہے
ایک دھوکہ ہے تیری محفل میں اے ساقی میرے
کیا خبر تھی جامِ عشقِ یار پیمانے میں ہے
اب نہیں ہے چینِ دل اور اب نہیں باقی سکوں
نہ ہی مخفی سے قرارِ جاں نہ بتلانے میں ہے
یھ قفس ہے میں مفقس ہوں تیرے اجمال کا
کیا رہائی میں مزا جو قید ہو جانے میں ہے
تیرگئ شب میں آبِ چشم جو بہتا رہا
پاک تر ہے اس سے، پانی جو وضو خانے میں ہے
عشق کے دریا کی کشتی کو کنارہ ہے عبث
جو مزا غرقاب میں ہے وہ نہ تیرانے میں ہے
یوں ہی روز و شب گزرتی جا رہی ہے زندگی
دن غمِ دوراں میں ہے اور رات مے خانے میں ہے
اس کے دل میں گھر نہیں تیرا کہ تو ہے سنگ راہ
تیری تو قصدِ حیاتی ٹھوکریں کھانے میں ہے
ایک ضدی ہے میرا ہمزاد جو سنتا نہیں
لگ رہا ہے آبرو اب اسکے مرجانے میں ہے
ایک اسکے وصل کی ہے آرزو مجھ کو ضیاء
جسکی یادوں کی نمی ہر رات سرہانے میں ہے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






