لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے
Poet: FARAZ
By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

رکھتے ہیں جو اوروں کے لئے پیار کا جذبہ فراز
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے

Rate it: Views: 99 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 09 Feb, 2011
About the Author: Tariq Baloch

zindagi bohot mukhtasir hai mohobat ke liye
ise nafrat me mat ganwao.....
.. View More

Visit 1648 Other Poetries by Tariq Baloch »
 Reviews & Comments
یہ فراز کا شعر نہیں ہے بلکہ ساغر صدیقی کا ہے
ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے،
پردہ بھی اٹھائیں رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے۔

کر لیتے ہیں دل اپنا تصوّر سے ہی روشن،
موسی کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے۔

رکھتے ہیں جو اوروں کیلۓ پیار کا جزبہ،
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتے۔

کہتی ہے تو، کہتی رہے مغرور یہ دنیا،
ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے۔

ہم لوگ تو مۓ نوش ہیں، بدنام ہیں ساغر،
پاکیزہ جو ہیں لوگ، وہ کیا کیا نہیں کرتے۔
By: خان, ombrg on Jan, 05 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.