کیوں یہ جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
Poet: ابنِ منیب
By: ابنِ مُنیب, سویڈن

کیوں یہ جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
سب مسافر فنا کے ہوتے ہیں

جو دِکھاتے ہیں بندگی اپنی
کب وہ بندے خدا کے ہوتے ہیں

خوب واقف ہیں مانگنے والے
"وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں"

درد رکھتے ہیں جو یتیموں کا
ساتھ خیر الورٰی (ص) کے ہوتے ہیں

بھول جاتے ہیں روشنی اپنی؟
وہ جو طالب ضیا کے ہوتے ہیں

ہم سے نظروں میں ہمکلام اکثر
سب کی نظریں بچا کے ہوتے ہیں

مجھ سے کہتی ہے شاعری میری
جھوٹ تیرے بلا کے ہوتے ہیں

- اِبنِ مُنیبؔ

(واوین میں مصرع جناب اختر سلیم کا ہے۔)

Rate it: Views: 5 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 11 Apr, 2018
About the Author: Ibnay Muneeb

https://www.facebook.com/Ibnay.Muneeb.. View More

Visit 127 Other Poetries by Ibnay Muneeb »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.