کوئی تو شرم ہوتی ہے ، کوئی تو حیا ہوتی ہے
Poet: Shazia Fatima Mashkoor
By: shazia, karachi

کوئی تو شرم ہوتی ہے ، کوئی تو حیا ہوتی ہے
اپنے ملک سے شریفوں کیا ایسے وفا ہوتی ہے

صاحب اقتدار کے ذرا، کمالات تو دیکھیئے
ہو جاتی ہے سفید وہ، آمدن جو سیاہ ہوتی ہے

قول سے مکر جائیں توجھوٹ نہ جانیے
انکی سیاست کی یہ بھی اک، ادا ہوتی ہے

یہاں پدر پلتے ہیں فرذندوں کے مال پر،
ایسی کفالت دنیا میں یارو کہاں ہوتی ہے

وفا شعار ہیں چمچے تیرے، اے نواز مگر
نام ِاحتساب پر کیوں روح انکی فنا ہوتی ہے

شعلہ بیانیاں تیرے درباریوں کی، کیا کہیئے
پرجھوٹ کی بھی صاحب کوئی انتہا ہوتی ہے

گر ضمیر ہے زندہ تیرا، تو خدارا جواب دے
کس مال پہ پل کر تیری نسلیں، جواں ہوتی ہے

لوٹ لے سب کچھ پراے بے خبر! یاد رکھ
بڑی ظالم ہے وہ، جورب کی قضاء ہوتی ہے

کوئی تو شرم ہوتی ہے، کوئی تو حیا ہوتی ہے
اپنے ملک سے شریفوں کیا ایسے وفا ہوتی ہے

Rate it: Views: 50 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 31 Jan, 2017
About the Author: shazia

Visit 6 Other Poetries by shazia »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
do u agree ppl?
By: shazia mashkoor, karachi on Feb, 05 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.