میری زندگی بے رنگ سی بے ڈھنگ سی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaمیری زندگی بے رنگ سی بے ڈھنگ سی
بہت گہری خاموش اک ترنگ سی
اک ندی کا کنارہ
جو ڈھونڈ رہا ہے سارا
کس تلاش میں اتنا سفر کیا
منزل سے اب تک ہے انجانا
زمانے کی ٹھوکروں نے کتنا ستایا ُاسے
پھر بھی یہ دل ہے زمانے کا دیوانہ
وہ دور ہے مجھ سے
لیکن بہت قریب بھی ہے
وہ کیوں خفا ہے مجھ سے
جبکہ عزیر بھی ہے
محبت کرتا ہے تو پھر
یہ نفرت کیسی
لوگوں کے لیے رحم دل
لیکن میرے لیے یزید بھی ہے
میں کس پیاس میں ہوں اب تک
جبکہ سمندر میرے قریب بھی ہے
اک آس ہے اک ُامید ہے
اور دل میں یقین ہے
وہ لوٹ کر آئے گا ضرور
وہی تو میرا نصیب ہے
میں اچھی ہوں میں ُبری ہوں
میں جھوٹی ہوں میں سچی ہوں
دنیا میں ہوں لیکن اب کہاں
دنیا میں رہتی ہوں
میری خواہشیں مہتاب سی
میری خوشیاں خواب سی
میں تجھ جیسی تیرے نام سی
میں سادہ ہوں آسان سی
میں خاموش ہوں اک رات سی
میں بند ہوں اک کتاب سی
میری زندگی بے رنگ سی
بے ڈھنگ سی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






