لطفِ زندگی
Poet: Moulana Hamid Ali Khan R.A By: Muhammad Siddique Prihar, Dallas,USAجو تیری یاد میں محفل سجایا نہیں کرتے
میلاد کی بزم میں کبھی بھی آیا نہیں کرتے
تیری الفت میں جو لو لگایا نہیں کرتے
حقیقت میں وہ لطف زندگی پا یا نہیں کرتے
جو یاد مصطفےٰ سے دل کو بہلایا نہیں
کرتے ہیں صبر وہ شور مچایا نہیں کرتے
چوٹ لگے انہیں کسی کو بتلایا نہیں کرتے
دکھڑا سنانے کسی کے پاس جایا نہیں کرتے
زباں پہ شکوہ ءرنج و الم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
اس در کے سوا کہاں ملتا ہے بے مانگے
دکھاﺅ ایسی جگہ ہمیں جہاں ملتا ہے بے مانگے
چلو چلیں دیا ر مصطفےٰ وہاں ملتا ہے بے مانگے
یہ دربار محمد ہے یہاں ملتا ہے بے مانگے
ارے ناداں یہاں دامن کو پھیلایا نہیں کرتے
جھکتے ہیں سر شاہوں کے اسی چوکھٹ پر
بن جاتی ہے ہر ایک کی بگڑی چوکھٹ پر
بڑی چاہتوں سے پہنچا ہے ابھی چوکھٹ پر
ارے او ناسمجھ قربان ہو جا ان کی چوکھٹ پر
یہ لمحے زندگی میں بار بار آیا نہیں کرتے
گزریں ریاض الجنت میں ان لمحوں کا کیا کہنا
ملتے ہیں در رسول سے ان ٹکڑوں کا کیا کہنا
بٹ رہی ہے جو خیرات کی وسعتوں کا کیا کہنا
یہ دربار رسالت ہے یہاں اپنوں کا کیا کہنا
یہاں سے ہاتھ خالی غیربھی جایا نہیں کرتے
لوٹاتے نہیں خالی علی اور بتول ایسے ہیں
محافظ دین کے اہل بیت رسول ایسے ہیں
نہیں رکھتے دل میں کوئی ملول ایسے ہیں
محمد مصطفےٰ کے باغ کے سب پھول ایسے ہیں
جو بن پانی کے تر رہتے ہیں مرجھایا نہیں کرتے
کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ان کا کوئی حاسد
رشک کرتے ہیں ان کی قسمت پر سب زاہد
دھنی ہیں مقدر کے سکندر صدیق خدا شاہد
جوان کے دامن رحمت سے وابستہ ہیں اے حامد
کسی کے سامنے وہ ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






