خدا کے پیاروں میں مصطفیٰ سا نہیں ہے کوئی طبیب لوگو
Poet: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonخدا کے پیاروں میں مصطفیٰ سا نہیں ہے کوئی طبیب لوگو
کہ ذاتِ حق سے کوئی پیمبر نہیں ہے اُن سا قریب لوگو
میں مَرَضِ عصیاں میں مبتلا تھا ، انھیں کے صدقے ملا مداوا
ہیں غم زُدا ، غم زَدہ دلوں کے ، وہی ہیں کامل طبیب لوگو
نمازِ اقصیٰ سے ہے یہ ظاہر ، وہی ہے اوّل وہی ہے آخر
نہ آیا ہے ، اور نہ آے گا اب ، خدا کا ایسا نقیب لوگو
نبیِ رحمت ، شفیعِ محشر ، پیمبروں کے امامِ اکبر
وہی ہیں بے شک فرید و یکتا ، حبیبِ ربِّ حسیب لوگو
عرب کے جتنے فصیح گذرے ، کلام سُن کر بنے وہ گونگے
بلیغِ اعظم ، فصیحِ کامل ، نہ آیا اُن سا خطیب لوگو
حبیٖبِ حق ہیں خدا کی نعمت ، ہے جانِ ایماں اُنھیں کی الفت
جو منکرِ شان مصطفیٰ ہے ، وہی تو ہے بدنصی لوگو
’’عمر ہوں ، صدیق ہوں کہ عثماں ، علی ہوں یا ہوں بلال و حسّاں ‘‘
وہ جنتی ہے بشرطِ ایماں ، جو آیا اُن کے قریب لوگو
مدینے میں مجھ کو موت آے ، تو وحشتِ نار کیوں ستائے
نصیٖب سے کاش ہو میسّر ، جو مجھ کو ایسا نصیب لوگو
جب ہوگی اُن کی تجلّی افگن ، لحد مری ہوگی خوب روشن
یہ سچ ہے ہوتی ہے شامِ تُربَت ، بہت ہی زیادہ مہیب لوگو
طلب ہے سب کو دواے دل کی ، قرارِ جاں کی سکونِ دل کی
مجھے تمنّا ہے سوزِ دل کی ، ہے حال میرا عجیب لوگو
کہاں مُشاہدؔ اور نعتِ آقا ، رضا کے صدقے ملا سلیقہ
جو گلشنِ عشقِ مصطفیٰ کا ہے خوش نوا عندلیب لوگو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






