دُعا
Poet: By: sumera ataria, GUDDUمری بےنام ہستی کا کوئی عُنوان ہو جائے
مرے مالک حضُوری کا کوئی سامان ہو جائے
یہاں پر زندگی کرنا کوئی مُشکل سی مُشکل ہے
کچھ ایسا ہو مرے رب زندگی آسان ہو جائے
مرے اعمال ہی جنت میں لے کر جائیں گے مُجھ کو
مگر اس بات پر پُختہ اگر ایمان ہو جائے
میں اپنے نفس کی تطہیر اُس لمحے میں کر ڈالوں
مرے دل میں گھڑی بھر کو جو تو مہمان ہو جائے
دلوں کے بھید سب معلوم ہیں تُجھ کو چھُپاؤں کیا
مرے بس میں مرے آقا مرا شیطان ہو جائے
میں اپنا آپ ڈھونڈھوں کس طرح خلقت کی کثرت میں
مرا چہرہ ہے بے چہرہ کوئی پہچان ہو جائے
تری مخلوق کی خدمت کا مُجھ کو حوصلہ دے دے
کہ شاید اس سے میرے درد کا درمان ہو جائے
دلوں کو فتح کرنے کی اگر بخشے مُجھے طاقت
تو یہ مُحتاج سُلطانوں کا بھی سلطان ہو جائے
خوشا،جنت مکیں کردے مرے اجداد کو یارب
مری اولاد پر بھی یہ ترا احسان ہو جائے
مرے دُکھ سُکھ کے ساتھی کو یہاں پر بھی صلہ دے دے
وہاں پر بھی یہی نسبت مری پہچان ہو جائے
مانگنے کا تو سلیقہ بھی نہیں آتا
بنا مانگے اگر دےدے تو کیسی شان ہو جائے
................ آمين ثم آمين يارب العالمين.............
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






