Maa.............
Poet: (Syed Wasi Shah) By: sumera ataria, GUDDUMaan, Mujhe Neend Nahi Aati Hai
Aik Mudat Se Mujhe Neend Nahi Aati Hai
Maan, Mujhe Lo-ry Sunao Na
Sula Dona Mujhe
Maan, Mujhe Neend Nahi Aati Hai
Rat-Jagey Ab Tu Muqadar Hain Meri Pulkon Ka
Neend Aye Tu Liye Aati Hai Bagdad Ki Yaad
Ankh Lagte He Koi Bewa Utha Deti Hai
Pait Kitna He Bharon Bhook Nahi Mit-ti Hai
Jaltay Basra Ki Mujhe Piyass Jaga Dete Hai
Koi Qandhar Ki Waadi Se Bulata Hai Mujhe
Zikr Qandoz Ka Aye Tu Mujhe Lagta Hai
Kaat Ker Sar Koi Hansta Hai, Jalata Hai Mujhe
Bomb Ki Awazain Mujhe Kuch Nahi Kehti Hain Magar
Zakham In Bacho Ke Sone Nahi Dete Hain Mujhe
Maan Meri Ankhain Tu Pather Ki Hui Jati Hain
Nojawaan Lashey Yeh Ronay Nahi Dete Hain Mujhe
Mere Seene Per Rakho Hath
Rula Dona Mujhe..
Maan, Mujhe Lo-ry Sunao Na
Sula Dona Mujhe
Maan, Mujhe Neend Nahi Aati Hai
Aik Mudat Se Mujhe Neend Nahi Aati Hai
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






