|
|
|
شکریہ
|
|
By:
ندیم مراد,
umtata RSA
on
Aug, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
| جناب ندیم مراد صاحب میں باکل بھی نارض نہیں ھوں علمی باتوں کا جواب علمی ھوتا ھے آپ کی یہ بات غیر علمی ھے کہ مجھے کوئی ناراضگی ھے اور تنقید کے مشرقی اور مغربی دونوں اصول سمجھتا ھوں پاک ٹی ھاوس لاھور میں (اب علم نہیں کے وھاں موجود ھے یا نہیں ) کلام تنقید کے لئے پیش کرتا رھا ھوں تصوف سے خاص لگاو ھے اسی لئے کلام شائع نہیں کرتا کہ رہ سلوک میں ذات کی نفی ضروری ھے اور جب میں اپنی ذات اور انا کا قائل ھی نیہں تو آپ کی بات کا برا منانے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا۔ یقینا اپ کی علمی سطح عام قاری سے بلند ھے مجھے آپ کے خیالات سن کر خوشی ھوئی ھے اللہ آپ کا حامی و ناصر رھے۔ سدید مسعود |
|
|
By:
sadeed Masood,
auckland Newzealand
on
Jul, 16 2012
|
|
|
|
|
|
|
اسلامُ علیکم سدید صاحب مقصود آپ کو ناراض کرنا ہرگز نہیں تھا آپ نے غصے میں میرے الفاظوں پر دیہان نہیں دیا میں نے کہا تھا کہ (آپ کی غزل اتنی پسند آئی کے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے دیکھ لیا کیا ہوا، ) اور یہ اصلاح ہرگز نہیں جو کچھ کیا وہ پسندیدگی کی وجھ سے کیا اپنے ملک کے حالات ھم بھی یہاں خبروں میں سن سن کر کڑھتے ہیں، باقی رہی ان اساتذہ کی اصلاح کرنے والی بات تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ جن اشعار کا آپ نے زکر کیا ہے ان میں اقبال کے شعر مسائل سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہیں انہیں قنوطیت نہیں کہہ سکتے، باقی اشعار بھی قنوطیت نہیں ہیں، اور آپ کے اشعار بھی قنوطیت نہیں ہیں یہ تو شاعر کی نازک جزبات کی خارجی کیفیات ہیں، جن سے کنارہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے آپ کی غزل میں رجائیت کا رنگ بھرا اس مطلب یہ نہیں کہ اس میں قنوطیت تھی، اپنے وطن سے محبت میں دل نہیں چاہتا کہ کوئی برے حالات کا تذکرہ بھی کرے، انشاءاللہ رات کے بعد صبح ضرور آئے گی، مجھے بھی خوشی ہوئی کہ آپ کو ہماری طبع آزمائی پسند آئی، تنقید برائے تنقید کا میں کبھی بھی قائل نہیں رہا نہ اب ہوں، آپ کی غزل برے حالات کی عکاس اور مستقبل سنوارنے کے لئے کسی کو کھڑا کرنے کی تبلیغ ہے، اور میرا جواب روزِ روشن کی امید ہے، معزرت اگر آپ کو دکھ پہنچا، مخلص ندیم مراد |
|
|
By:
nadeem murad,
umtata, RSA
on
Jul, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
رجائیت اچھی چیز ہے مگر خوش فہمی اچھی چیز نہیں میری غزل کا محور مستقبل نہیں ھے موجودہ دور ھے جہاں ھر روز لاشیں گر رھی ھوں لوگ سہمے ھوئے ھوں وہاں شاعر کا احتجاج فطری ھے وہ پرانی قدروں کی اور امن کی واپسی چاھتا ھے اگر آپ کو اس میں رجائیت نظر نہیں آتی تو پھر ایسی ہی اصلاح غالب فیض اور اقبال کی بھی کر دیجئے شائد اردو ادب کی بہت بڑی خدمت ھو۔ دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ھوں یارب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ھو (اقبال)
پھر کوئی آیا دل زار کوئی نہیں رہرو ھوگا کہں اور چلا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو بڑھا دو مہ مینا و ایاغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا (فیض)
دل ھی تو ھے نہ سنگ و خشت درد وغم سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ھم ھزار بار کوئی ھمیں ستائے کیوں (غالب)
جناب ھم تو دیار غیر میں بیٹھے ملکی حالات کا سن سن کر روتے ھیں اور آپ رجائیت اور قنوطیت کی بحث لے بیٹھے۔ ہمیں تو خوشی ھے کسی نے ھماری زمین میں طبع آزمائی کی۔
سدید مسعود |
|
|
By:
sadeed Masood,
Auckland Newzealand
on
Jul, 09 2012
|
|
|
|
|
|
|
وہی رت بھی ہے وہی گل بھی ہیں، ہے ہوا وہی ہے صبا وہی وہی قمریاں وہی چہچہے، انہی بلبلوں کی نوا وہی وہ جو نُور تھا وہ گیا نہیں، وہ چراغ دل کا بجھا نہیں مری بیکلی میں مزا وہی، مری تیرگی میں نوا وہی یہ مری زمیں میں لہو ہے جو، یہ سبب بڑی ہی نمو کا ہے وہی کونپلیں وہی ٹہنیاں، مرے موسموں کی ادا وہی وہی عشق ہے وہی شوق ہے، وہی دار ہے وہی ذوق ہے جواُٹھا کے سر و علم چلے ہے وقار سے تو سزا وہی وہی شہر ہے اے سدید اور اسکی ہوائیں بھی ہیں وہی وہی لوگ اسکے ندیم سب ہے ردا وہی ہے قبا وہی جناب سدید صاحب معزرت کے ساتھ میں ذرا رجائیت پسند ہوں امید کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتا آپ کی غزل اتنی پسند آئی کے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے دیکھ لیا کیا ہوا، ایک بار پھر معزرت یہ میری طرف سے حوصلہ افزائی ہے تنقید نہیں۔ ندیم مراد |
|
|
By:
nadeem murad,
umtata RSA
on
Jul, 05 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
nice..........................keep it more up
|
|
By:
sumera ataria,
GUDDU
on
Jul, 02 2012
|
|
|
|
|