اجنبی شہر میں دیوار کھڑی کرتے ہو
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiمیں نے دریا کو بھی کوزہ میں چھپا رکھا ہے
ہر غم ۔دہر کو سینے سے لگا رکھا ہے
جس کو گل پاش نگاہوں کا امیں کہتے ہو
اس نے ہر ہاتھ میں اک سنگ اٹھا رکھا ہے
تم ستاروں کی ہی چالوں میں ہو الجھے الجھے
ہم نے گر دوں کو بھی ہمسایہ بنا رکھا ہے
روشنی شمس و قمر کی عنایت خاص نہیں
اک دیا ہر بُن مونے جلا رکھا ہے
آتش شوق میں جل جاتے ہیں دل والے
حسن بے پروا نے دیوانہ بنا رکھا ہے
تم تو کہتے ہو کہ حالات بدل جائیں گے
ہم نے خوابوں پہ بھی تکیہ ہی لگا رکھا ہے
تم مری آبلہ پائی سے حراساں کیوں ہو
میں نے ہر زخم میں منزل کا پتہ رکھا ہے
جن کی خوشبو سے بھرا رہتا تھا گلشن میرا
ان کی یادوں کو بھی اس دل سے لگا رکھا ہے
اک ذرا غور سے دیکھو سبھی اپنے ہوں گے
جن کو ظلمات کی موجوں نے جدا رکھا ہے
اجنبی شہر میں برکات دیوار کھڑی کر تے ہو
تم نے اپنوں کو بھی اغیار بنا رکھا ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






