فکر انسان اور بےبسی
Poet: Mohammad shaukat mehmood By: Mohammad shaukat mehmood, Jhelumزمین و آسمان کی وسعتوں کومیں دیکھ تو چکا،لیکن
ان کی حقیقت ہے کیا پتامجھ کونہیں
سانسوں کا چلنا دل کا دھڑکنا میں دیکھ چکا لیکن
یہ عمل ہے کیسے ممکن پته مجھ کو نہیں
موت تو بظاہر عمل ہے میرے خود کے مرنےکا
اسں میں پوشیده راز کیا،پته مجھ کو نہیں
کوئلیں بلبلیں گنگناتی ہیں اس چمن میں لیکن
ان کے دل میں ھوتا ہے کیا،پته مجھ کو نہیں
دانے کے عمل کو تو میں جان چکا لیکن
اس میں پوشیده زندگی ھے کیسے، پتہ مجھ کو نہیں
میری آنکھ جو دیکھ رھی ھے،چمن کےنظاروں کو
یہ سب تخلیق ھے کس کی،پتہ مجھ کو نہیں
چمن کی زندگی کے چند سالوں میں دیکھ چکا لیکن
آگے ھو گی زندگی کیسی،پتہ مجھ کو نہیں
جنت جوتونے بنائی ہی،میرے لیے ہے
میرے نہ ھونےسے وه ھوگی کیسے،پتہ مجھ کو نہیں
آتے بھی اور جاتےبھی ہیں یہاں سے ہم
آتےہیں کہاں سے اور جاتے ہیں کہاں،پتہ مجھ کو نہیں
سوچ تو ٹکرا رہی ہے ان دیکھی حدوں سے،شوکت
دیکھنا کیا چاہتا ہے،پتہ تجھ کونہیں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






