زہے عزت و اعتلائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
Poet: اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن By: kanzul ilam, Lahoreزہے عزت و اعتلائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کہ ہے عرش حق زیر پائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
مکاں عرش ان کا فلک فرش ان کا
ملک خادمان سرائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
عجب کیا اگر رحم فرمائے ہم پر
خدائے محمد برائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
محمد صلی اللہ علیہ وسلم برائے جناب الٰہی
جناب الٰہی برائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
بسی عطر محبوب کبریا سے
عبائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قبائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
بہم عہد باندھے ہیں وصل ابد کا
رضائے خدا اور رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
دم نزع جاری ہو میری زباں پر
محمد صلی اللہ علیہ وسلم محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدائے محمد
عصائے کلیم اژدھائے غضب تھا
گروں کا سہارا عصائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
میں قربان کیا پیاری پیاری ہے نسبت
یہ آن خدا وہ خدائے محمد
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دم خاص بہر خدا ہے
سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم برائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
خدا ان کو کس پیار سے دیکھتا ہے
جو آنکھیں ہیں محو لقائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
جلو میں اجابت خواصی میں رحمت
بڑھی کس تزک سے دعائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا
بڑھی ناز سے جب دعائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دلہن بن کے نکلی دعائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
رضاؔ پل سے اب وجد کرتے گزریئے
کہ ہے رَبِّ سَلِّمْ دعائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں







