سزا
Poet: Amin Sadruddin Bhayani By: Amin Sadruddin Bhayani, Atlanata, GA, USA.بے ہنر ہونے کی میرے یہ کوئی سزا ہے
یا پھر خدا کی شاید یہ کوئی رضا ہے
دن رات یونہی اندیشہ سود و زیاں میں
مبتلا رھنے میں بھی بھلا کوئی مزا ہے
خوف و بے یقینی کی اس فضاٴ میں
جی کر بھی کسی کی بھلا کوئی بقا ہے
ہیں کیوں بے اثر میری ساری دعائیں
اسمیں بھی میری ہی شاید کوئی خطا ہے
کردی ہے کوتاہی مانگنے میں شاید
ورنہ اس کی زات تو صاحب عطا ہے
تھک گیا ہوں کرتے صبر و انتظار اب
سنا ہے مگر اس میں بھی بڑی جزا ہے
تنکے سے جو بکھر رہے ہیں آشیاں کے میرے
ناپائیداری ہے آشیاں کی یا قسمت کی کوئی جفا ہے
موج آفات میں ڈوبے ہیں سارے اھل وطن
اور دیکھیئے جو حکمرانوں کا انداز وفا ہے
یوں بنے وحشت کا شکار ایک ماں کے دو لخت جگر
کھ اٹھے وحشی درندے تک یہ تو وحشت کی انتھا ہے
دیکھتے رہے تماشا لوگ بن کے تماشائی
ان انسانوں سے تو انسانیت کو بھی حیاٴ ہے
پاک فتنہ مذہب و سیاست سے کردے وطن کو
میرے مولا بس اتنی سی ہی میری دعا ہے
رحم و کرم کی کردے اب تو اک نظر مولا
تیرے انگنت بندوں کی یہ واحد متاع ہے
اپنے ہی گھر کو جلاوٴ گے تو جاوٴ گے کہاں
خدارا زرا سوچو درد بھری میری یہ التجا ہے
مٹادیتا ہے اسے سمبھل سکے نہ جو
زمانے کی امین یہ بھی اک ظآلم ادا ہے
امین صدرالدین بھایانی، اٹلانٹا، امریکا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






