یادیں

Poet: By: Faisal Bhatti, Lahore

درد چمکا رہی ہے تیری یاد نور برسا رہی ہے تیری یاد
دل کی وادی میں چاندنی کی طرح پھیلتی جارہی ہے تیری یاد

یادوں کا اک جھونکا آیا ہم سے ملنے برسوں بعد
پہلے اتنا روئے نہیں تھے جتنا روئے برسوں بعد

لمحہ لمحہ گھر اُجڑا ہے مشکل سے احساس ہوا
پتھر آئے برسوں پہلے شیشے ٹوٹے برسوں بعد

آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ہے
پھول ہوئے جانے کیسے اتنے سستے برسوں بعد

بھول جاؤ کس نے توڑا کیسے توڑا کیوں توڑا
ڈھونڈ رہے ہو کیا گلیوں میں دل کے ٹکڑے برسوں بعد

دستک کی امید لگائے کب تک جیتے ہم
کل کا وعدہ کرنے والے ملنے آئے برسوں بعد

Rate it:
Views: 1160
08 May, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL