ہجر میں روز جلتے جلتے میں تھک گیا ہوں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiہجر میں روز جلتے جلتے میں تھک گیا ہوں
خالی ہاتھوں کو ملتے ملتے میں تھک گیا ہوں
جان جاں اب تو شرف حاصل ہو دید کا بھی
ہجر کے سنگ چلتے چلتے میں تھک گیا ہوں
میں زمانے کی جعل سازی میں ڈھل نہ پایا
پر زمانے میں ڈھلتے ڈھلتے میں تھک گیا ہوں
چھوڑ جا میری مفلسی مجھ کو چھوڑ جا تو
گود میں تیری پلتے پلتے میں تھک گیا ہوں
اب تری یاد سے گزارہ نہ ہو سکے گا
اب اکیلے میں چلتے چلتے میں تھک گیا ہوں
لوٹ آ میرے چاند اب تو ، تو لوٹ بھی آ
ساتھ سورج کے ڈھلتے ڈھلتے میں تھک گیا ہوں
طعنہ اب کوئ بھی ملا تو نہ سہہ سکوں گا
روز لوگوں سے ٹلتے ٹلتے میں تھک گیا ہوں
اب مسیحائ کی ضرورت سی پڑ گئ ہے
زخمی پاؤں پہ چلتے چلتے میں تھک گیا ہوں
مجھ کو باقرؔ تمہاری یادوں سے پیار ہے پر
اب کے یادوں میں گلتے گلتے میں تھک گیا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






