مرگ کے بعد ہی پیارو تمہیں یاد آؤں گا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمرگ کے بعد ہی پیارو تمہیں یاد آؤں گا
اپنے اشعار میں یارو تمہیں یاد آؤں گا
چھوڑ جاؤں گا فضاؤں میں، میں خوشبو اپنی
شہرِ جاناں کی بہارو تمہیں یاد آؤں گا
میں نے ہر سال جو پھولوں سے سجایا ہے تمہیں
اے بزرگوں کے مزارو تمہیں یاد آؤں گا
بیٹھ کر تم پہ بھی اشعار میں لکھتا تھا کبھی
سندھ دریا کے کنارو تمہیں یاد آؤں گا
میں نے ہر رات گزاری جو تمہارے سنگ تھی
چاندنی رات کے تارو تمہیں یاد آؤں گا
کیسے ممکن ہے کہ محسوس کمی ہو گی مری
میں جو ہر موڑ پہ یارو تمہیں یاد آؤں گا
شہر والو ذرا سوچو یہ کہا تھا کس نے
مجھے پتھر تو نہ مارو تمہیں یاد آؤں گا
لے گئے جان مری یار کے غم آخر کار
اے غمِ ہجر کے مارو تمہیں یاد آؤں گا
عمر بھر اس کو تو باقرؔ میں یہی کہتا رہتا
مجھے دل سے نہ پکارو تمہیں یاد آؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






