کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعد
Poet: عادل فرحت By: مصدق رفیق, Karachiکوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعد
کہ ایک شخص نہ بھایا ترے وصال کے بعد
اسے ملال کہ میں نے اسے چھوا ہی نہیں
مجھے ملال کہ اس نے کہا ملال کے بعد
کبھی بھی عشق جو کرنا تو سوچ کر کرنا
یہ تجربہ ہے مرا یار اپنے حال کے بعد
برہنہ روح تھی جب تک کوئی تماشہ نہ تھا
یہ سب شروع ہوا ایک خد و خال کے بعد
عجیب رنگ دکھائے ہیں عشق نے تیرے
کہ میں عروج پہ آیا مرے زوال کے بعد
ترے وصال سے نکلا تو ہجر ٹوٹ پڑا
میں پھر سے جال میں آیا ہوں ایک جال کے بعد
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






