میں تمہارا رہا رات بھر
Poet: آدرش دبے By: مصدق رفیق, Karachiمیں تمہارا رہا رات بھر
کسمساتا رہا رات بھر
تم نے دل کو جلایا بہت
میں بجھاتا رہا رات بھر
زخم ابھرے تھے تن پر مگر
میں چھپاتا رہا رات بھر
جس کے آنے کی امید تھی
وہ ستاتا رہا رات بھر
بس تمہیں بھولنے کے لیے
خط جلاتا رہا رات بھر
تم سے ملنا بہت ہے کٹھن
سو بھلاتا رہا رات بھر
خیر مقدم کو تیرے دیا
جگمگاتا رہا رات بھر
اشک پانی نہیں تھے مگر
میں بہاتا رہا رات بھر
دل میں تھا ایک پکشی ترا
چھٹپٹاتا رہا رات بھر
وہ مجھے چاہتا تھا بہت
میں بناتا رہا رات بھر
میں ہی ہوں تیرا اک ہم سفر
یہ جتاتا رہا رات بھر
بس تجھے دیکھنے کے لیے
کسمساتا رہا رات بھر
جس پہ ہم کو بہت تھا یقیں
وہ رلاتا رہا رات بھر
یہ تو آدرشؔ بھی نہ ہوا
کون آتا رہا رات بھر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






