کوئی تو نقش ہے کہیں میری زندگی میں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaکوئی تو نقش ہے کہیں میری زندگی میں
جو ہاتھ چھوٹ رہے ہیں ہر گھڑی میں
جدید دور ہے جدید لوگ ہیں خدا قسم
عیب ڈھونڈ لیتے ہیں لوگ ہر کسی میں
میری حالت پہ مت جاؤ میرا انداز دیکھو
آج بھی بادشاہی ہے یارو میری مفلسی میں
کل تک تھے آباد میری محبت کے محل
زلزلہ آیا مجبوریوں کا دفن ہوئے بے بسی میں
زبان کے حصے میں آئیں خاموشیاں جب سے
لفظ داستان کے بیان ہوئے چشم نمی میں
یہاں رہتے ہیں گھائل ، تڑپائے ہوئے اور بے کس
آپ کہاں آ گئے جناب میری بستی میں
نہالؔ ہے تو نہیں عقل مند مگر کہتا ہے
حاصل کچھ نہیں ہوتا جھگڑوں میں ، دشمنی میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






