مانا کہ میری ڈور ہے ترے ہاتھ میں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaمانا کہ میری ڈور ہے ترے ہاتھ میں
کیا یونہی نچائے گا تو مجھے حیات میں
اگرچہ میں ترا ہوں تو میری بھی سن
کیوں حکم ہوتا ہے ترا ہر بات میں
مانا کہ تری ایجاد ہے وجود آدم کا
غلام بنا رکھا ہے تو نے ہمیں کائنات میں
بنا کے اشرف المحلوقات مجھے بھیج دیا
مگر نہ دیا کچھ میرے اختیارات میں
نہ کوئی شکوہ ہوتا تری کارسازی سے
اگر جان نہ ڈالتا تو میرے جذبات میں
سارے دن کی مشکت کی مہ پی پی کے
سو جاتا ہوں مدہوش ہو کے رات میں
خدایا! کر دینا معاف اِس گستاخی کو
گر نہالؔ کی الجھنیں شامل ہیں شکایات میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






