کل کیا ہوگا مت سوچا کر
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAالٹا سیدھا مت سوچا کر
مفتی اِتنا مت سوچا کر
بیٹھا بیٹھا مت سوچا کر
۔۔۔چل اٹھ بابا مت سوچا کر
کل کس نے دیکھا ہے پیارے
کل کیا ہوگا مت سوچا کر
دو دن کی ہوتی ہے محبت
عمر کا رونا مت سوچا کر
کچھ بھی نہیں ہے ہاتھ میں اپنے
جینا ، مرنا ، مت سوچا کر
اپنے دیس کی باتیں کرکے
گھبرائے گا مت سوچا کر
ہم بھی مسخر کرتے عالم
واعظ بولا , مت سوچا کر
عشق نہیں سودا ہو جسمیں
میرا تیرا مت سوچا کر
چھوڑ تا ہے کیوں وقتِ نازک
اپنا پرایا ۔۔۔۔۔۔۔۔مت سوچا کر
بیٹھا رہے گا کب تک ایسے
یوں افسردہ ۔۔۔۔مت سوچا کر
سوچتے سوچتے اک دن مفتی
مرجائے گا مت سوچا کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






