کب پھول کھلیں شغل چھڑے جامہ دری کا
Poet: مشتاق By: مشتاق, Chiniotکب پھول کھلیں شغل چھڑے جامہ دری کا
دیوانوں کو چسکہ ہے اسی خوش خبری کا
سوئے تھے سر شام کھلی پچھلے پہر آنکھ
منہ دیکھ کے اٹھے ہیں چراغ سحری کا
کچھ اپنی طرف میری نگاہوں سے بھی دیکھو
اس رخ سے بھی اک باب کھلے خود نگری کا
ناساز ہوائے پر پرواز نہ ہو جائے
موسم تو گیا خیر سے بے بال و پری کا
یہ چاند یہ سورج یہ اندھیرا یہ اجالا
منہ دیکھ رہا ہے سفری ہر سفری کا
قائم نہیں رہتی ہیں کسی شے پہ نگاہیں
اب کوئی ٹھکانا ہے پریشاں نظری کا
فطرت ہی سے ملتی ہے رضاؔ داد سخن بھی
جب فرض ادا ہوتا ہے پیغامبری کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






