ایک دفعہ وہ مجھے دل میں تو آنے دیتا
Poet: منہاج By: منہاج, Dera Ismail Khanایک دفعہ وہ مجھے دل میں تو آنے دیتا
میں اسے شام نہیں دیتا زمانے دیتا
آپ کے غم پہ بہت کام کیا ہے میں نے
اب میں روتا ہوں تو آنسو نہیں آنے دیتا
وہ مجھے ایک سے پہلے نہیں سونے دیتی
میں اسے خواب سے جلدی نہیں جانے دیتا
رب کے آگے تو تر و تازہ گیا ہوتا میں
وقت کچھ دیر مجھے ٹیک لگانے دیتا
شعر کا رزق ان آنکھوں میں ہے لیکن مرے دوست
دل مجھے ہونٹ سے اوپر نہیں جانے دیتا
ہر حسیں لڑکی کو تسلیم کیا کرتا ہوں
کوئی مصرع نہیں میں گرنے گرانے دیتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






