چاند چہرے کو ماہتاب لکھوں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Ali wahچاند چہرے کو ماہتاب لکھوں
جانِ من جانِ آفتاب لکھوں
خط ابھی آیا ہے خوشی ہوئی
سوچتا ہوں اسے جواب لکھوں
زندگی کٹ رہی ہے غم میں مری
جو ادھورا ہے میں وہ خواب لکھوں
گر اجازت ہو لکھ اسے دوں میں
یار اپنے کو میں جناب لکھوں
زندگی کا نہیں بھروسہ کوئی
زندگی تو ہے اک حباب لکھوں
تیرے بارے میں جانتا سب ہوں
تم اگر کہہ دو تو کتاب لکھوں
تم کو دیکھوں نہ جب تلک شہزاد
میں ہو جاتا ہوں آب و تاب لکھوں
اےبی شہزاد میلسی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






