اےدوست زندگی بھر ساتھ چل سکو تو چلو
Poet: اے بی شہزاد By: اے بی شہزاد, Ali wahاے دوست زندگی بھر ساتھ چل سکو تو چلو
زمانہ وقت کے ساتھ ڈھل سکو تو چلو
عداوتیں کریں گے اس جہاں کے لوگ میاں
نہج یہ راستے اپنے بدل سکو تو چلو
یہ عشق پیار تو قربانی مانگتا ہے یہاں
جنون عشق میں گھر سے نکل سکو تو چلو
نہیں ہے عشق کا درماں کسی کے پاس یہاں
فراقِ ہجر کے غم سے سنبھل سکو تو چلو
نہیں ملے گی اجازت یہ جانتا ہوں میں
کبھی کبھار رفافت میں مل سکو تو چلو
خوشی کے ساتھ ملیں گے ملال زندگی میں
خزاں کی سرد فضا سے بہل سکو تو چلو
خمارِ عشق میں شہزاد عین ممکن ہے
وفا میں جان و جگر دے یہ دل سکو تو چلو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






