چارہ گر ! آج تو کوئی نیا خواب دکھاؤ
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryچارہ گر ! آج تو کوئی نیا خواب دکھاؤ
عجب قال پڑا ہے زمین دل پر
مہیب سا اسناٹا گونجتا ہے
چاروں اور
ایک خلا سا ہے شہر ذات میں
اس لئے میرے مسیحا
جوہر مسیحائی دکھاؤ
کوئی نیا خواب
کوئی نئی امنگ
کوئی نیا ساز
کوئی نئی جہت۔
کچھ تو راہ سجاؤ
ہے عجب سی وقت کی بے نیازی
ہر رشتے،ہر محبت میں ہےخودفریبی
مجھے بھی کچھ خودپسندی سکھاؤ
میرے چارہ گر! کوئی راہ سجاؤ
یہ نیلام کس کی ذات کا ہے؟
لگ رہی ہے بڑھتی ہوئی یہ بولی کس کی؟
ارے! مجھے ان سوداگروں سے بچاؤ
میرے راہبر! کوئی نئی راہ دکھاؤ
اتر جائے روح کی ساری تھکن
میرے پیامبر! کوئی ایسا پیغام سناؤ
کھل جائے مجھ پر بھی عشق کی حقیقت
نعرہ تم بھی منصور جیسا لگاؤ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






