اُس کا کہنا تجھ سے ملنے کو نہ آنی چاہیے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپھر ملے ہم، جب بھی بچھڑے ہے کہانی چاہئے
تیری جانب سے جدائی، آنی جانی چاہئے...
مکر ہم کو بھول پن نے مات دی ورنہ تجھے
'دوستوں کی پہلے نیت آزمانی چاہیے "
صورت احوال کی گہرائیاں سمجھے نہ ہم
عکس کی منظر کشی کو مہربانی چاہئے
ہم سمجھ پاتے اداؤں کو تری شائد مگر
کس سفر میں ہیں کہ اب تک آزمانی چاہئے
دل نہ کوئی ٹوٹ جائے اس لیئے خاموش ہوں
جھوٹ سے حاصل نہیں کچھ بدگمانی چاہیے
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں تھا بس تنہا سفر
قافلوں سے راستے میں زندگانی چاہئے
دور تک منزل کہا ں ، نشاں کوئی نہ تھا
اور کہنے کو دلوں میں حکمرانی چاہیے
موت کے منظر کو کوئی دیکھتا ہے غور سے
اُس کا کہنا تجھ سے ملنے کو نہ آنی چاہیے
آس کے پیڑوں میں وشمہ نے جو رکھی تھی لچک
اس سے اچھا کیوں نہیں کہہ پائے رانی چاہیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






