وہ میرے ہمراہ چلتا تھا مگر میرا نہ تھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillزندگی کا روپ یہ پہلے کبھی سوچا نہ تھا
وہ میرے ہمراہ چلتا تھا مگر میرا نہ تھا
فاصلوں کی دھول کو آوارگی نے چوم کر
مڑ کے دیکھا جس گھڑی گھر کا کوئی رستہ نہ تھا
الفتوں کے کھیل میں خلوت کہاں خلوت رہے
وہ اگر تھا محفلوں میں ۔ میں بھی تو تنہا نہ تھا
کل صبح کرنیں مجھے صحن چمن میں لے گئیں
پھول تھے سب دلنشیں اس سا کوئی یکتا نہ تھا
بعد مدت اسکو دیکھا کل دیار خواب میں
زندگی بس کٹ گئی کچھ اور تو بدلا نہ تھا
سرپھری لو کے بگولے تھے میری ہی تاک میں
میں نے سرشاری میں جب تک پھول کو چوما نہ تھا
پھر کیوں لہریں مٹانے آ گئیں رہن وجود
میں نے بھیگی ریت پر دل کا بیاں لکھا نہ تھا
وقت کی دیوار پر منظر وہی آیا نظر
اک میری تصویر تھی پر شائبہ اپنا نہ تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






