زرا تھم کر یہاں کچھ لڑکیاں آرام کرتی ہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدل وحشی میں اکثر کرچیاں آرام کرتی ہیں
لب گرداب پاگل کشتیاں آرام کرتی ہیں
میری خاموشیوں کا تجزیہ کر کے ہی جانو گے
رکے لمحوں میں کتنی آندھیاں آرام کرتی ہیں
کہیں بھی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا امنگوں نے
میرے چلتے لہو میں تتلیاں آرام کرتی ہیں
بہاریں روٹھ کے گزریں پریشاں ہے چمن سارا
کہاں ہو تم کہاں وہ شوخیاں آرام کرتی ہیں
پرندوں کا جبھی تو کوچ کر جانا ہی بہتر ہے
سنا ہے گھونسلوں میں بجلیاں آرام کرتی ہیں
جہاں والے سمجھتے ہیں جسے تخلیق گوہر کی
دبا کر دل میں آنسو سیپیاں آرام کرتی ہیں
تو پھر پلکوں پہ بھی دستک کہاں محسوس ہوتی ہے
کہ جس موسم میں دل کی کھڑکیاں آرام کرتی ہیں
چھڑی خوشبو تو فطرت کا وہی پھر بانکپن بولا
ذرا تھم کر یہاں کچھ لڑکیاں آرام کرتی ہیں
چھپا رکھا ہے سب سے تم کو پھر بھی لوگ کہتے ہیں
میرے لفظوں میں تیری سسکیاں آرام کرتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






