نقاب زلف کو رخ سے ہٹا کے دیکھیں گے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنقاب زلف کو رخ سے ہٹا کے دیکھیں گے
جواب دے گا یہ کیا آزما کے دیکھیں گے
اندھیرے ختم کریں گے تو روشنی ہوگی
کبھی چراغ محبت جلا کے دیکھیں گے
حسیں ہے حسن بھی ہے ماہتاب کے جیسا
اسے تو پاس کبھی ہم بٹھا کے دیکھیں گے
یہی ہیں خواہشیں باقی بسی ہوئی دل میں
کبھی تو ان سے نظر ہم ملا کے دیکھیں گے
نہیں ہے پاس ہمارے ابھی وہ آئیں گے
ملے گا جب کبھی گھونگٹ اٹھا کے دیکھیں گے
دیار غیر میں لگتا نہیں تھا دل اپنا
فراق ہجر کی باتیں بتا کے دیکھیں گے
تمھارے بارے میں شہزاد نے بہت سوچا
لکھی ہیں یاد میں غزلیں سنا کے دیکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






