وہ تہمتیں نہ لگاتا تو اور کیا کرتا
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiوہ تہمتیں نہ لگاتا تو اور کیا کرتا
مرے ہنر نہ چھپاتا تو اور کیا کرتا
کھڑی تھیں ہر سو مظالم کی آندھیاں پھر میں
چراغ حق نہ جلاتا تو اور کیا کرتا
غریبی ساتھ مرا دے رہی تھی بچپن سے
نہ اس کا ساتھ نبھاتا تو اور کیا کرتا
میں چھالے ماں کی ہتھیلی پہ دیکھتا کیسے
کمانے شہر نہ آتا تو اور کیا کرتا
تمام بستی پریشاں تھی روشنی کے لئے
میں اپنا گھر نہ جلاتا تو اور کیا کرتا
سمجھ رہا تھا فرشتہ وہ خود کو اے عالمؔ
میں آئنہ نہ دکھاتا تو اور کیا کرتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






