حسین خواب دکھایا دکھا کے چھوڑ دیا
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiحسین خواب دکھایا دکھا کے چھوڑ دیا
کسی نے اپنا بنایا بنا کے چھوڑ دیا
جو اس کی یادوں کا دیپک کبھی ہوا روشن
تو آنسوؤں سے بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا
کیا نہ اس نے مرے درد کو کبھی محسوس
ہمیشہ دل کو دکھایا دکھا کے چھوڑ دیا
بتاتا کیسے میں حساس کے معانی اسے
سو آئنے کو اٹھایا اٹھا کے چھوڑ دیا
میں حوصلہ نہ جٹا پایا اس کو چھونے کا
نقاب رخ سے ہٹایا ہٹا کے چھوڑ دیا
کہیں نہ اس کی برائی میں ہم ہوئے شامل
نظر سے جس کو گرایا گرا کے چھوڑ دیا
بہت سلیقے سے اس نے کیا نظر انداز
قریب اپنے بٹھایا بٹھا کے چھوڑ دیا
نہ ان سے رکھی کبھی روشنی کی امیدیں
دیوں کو ہم نے جلایا جلا کے چھوڑ دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






