نظر دیکھتے ہیں جگر دیکھتے ہیں
Poet: سلیم By: سلیم, Charsaddaنظر دیکھتے ہیں جگر دیکھتے ہیں
تجھے ہر طرف جلوہ گر دیکھتے ہیں
وہ ہنس کر ادا سے جدھر دیکھتے ہیں
زمانے کو زیر و زبر دیکھتے ہیں
یہی ہیں جو خود بینیاں تو تمہیں کو
لگے گی تمہاری نظر دیکھتے ہیں
رہی جب نہ پاؤں اٹھانے کی طاقت
کھلے آج زنداں کے در دیکھتے ہیں
کہیں آ بھی او صبح امید عالم
تری راہ مرغ سحر دیکھتے ہیں
پلٹ کر وہ آئے ہیں میت سے میری
یہی خواب ہم رات بھر دیکھتے ہیں
جو ممکن نہیں تیرے در تک رسائی
تو بیٹھے تری رہ گزر دیکھتے ہیں
کہیں باغ میں گر بھڑکتے ہیں شعلے
تو گھبرا کے ہم بال و پر دیکھتے ہیں
چمکتے ہیں جب آسماں پر ستارے
تو ہم اپنے داغ جگر دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






