ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیں
Poet: عظیم By: عظیم, Daduستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیں
ابھی رات باقی ہے ہم جانتے ہیں
یہ شہرت مجازی ہے ہم جانتے ہیں
کہ ہے بھی نہیں بھی ہے ہم جانتے ہیں
بہت ساری اچھی سی خوش فہمیوں کی
جو قیمت ادا کی ہے ہم جانتے ہیں
گلستاں نظارے درخت اک محرم
جو دل پہ گزرتی ہے ہم جانتے ہیں
یہ زلف خیال خطا ہے نہ کھولو
یہ کھل کر جو کرتی ہے ہم جانتے ہیں
یہ ذات خدا ہے یہ دکھتی ہے دیکھو
مگر کس نے دیکھی ہے ہم جانتے ہیں
بیک وقت ضبط و ہوس کر کے عامرؔ
طبیعت جو بگڑی ہے ہم جانتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






