میں کیہ دساں
Poet: کلام سید غلام حضور By: maqsood hasni, kasurہن وقت اخیری اے میں کیہ دساں
گل کرن توں دل پیا سنگ دا اے
رنگ ویکھ کے رنگ نوں رنگ ہوندا
رنگ رنگ نوں رنگ پیا رنگ دا اے
حق' حق نوں ملے تاں حق ہوندا
حق' حق کولوں حق پیا حق مندا اے
جوڑ جوڑ نوں ملے تاں جوڑ بن دا
بنا جوڑ دے چہٹ نئیں لنگدا اے
موڑ' موڑ دے نال جے موڑ مڑیے
اے پر موڑ پہڑا ایس منڈ دا اے
انگ سنگ نوں ملے تاں سنگ بندا
انگ سنگ کولوں نئیں سنگ دا اے
ونگ ونگ کولوں ونگ کھس جاوے
ونگ پاوناں کم بڑے ڈھنگ دا اے
جنگ جنگ دے نال جے جنگ لگے
ایہہ کوئی کم نئیں چوڑی ونگ دا اے
ساڈے ملک نوں دیویں توں فتح ربا
غلام حضور دن راتیں دعا پیا منگ دا اے
.........................
نوٹ: آخری تن شعر مٹے ہوے نیں تے اوہناں دا پڑھنا ممکن نئیں۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






