تمہی یاد آتے ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreیادوں کے جگنو آنکھوں میں چمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہوں
یادوں کے ستارے آنکھوں میں دمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہو
یادوں کی کلیاں دل میں کِھلنے لگتی ہیں
جب دیکھوں میں برسات تمہی یاد آتے ہو
اطراف میں پھیلی باد مہکنے لگتی ہے
جب چھیڑے کوئی ساز رتمہی یاد آتے ہو
جوں چاند گگن پہ جلوہ نما ہو جاتا ہے
تاروں سے کرنے بات تمہی یاد آتے ہو
آنگن میں سنہری رات اترنے لگتی ہے
تنہائی بھی ایسے میں سنورنے لگتی ہے
آنکھوں میں تمہارے خواب ابھرنے لگتے ہیں
جب اوڑھے چاندنی رات، تمہی یاد آتے ہو
یادوں کے جگنو آنکھوں میں چمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہوں
یادوں کے ستارے آنکھوں میں دمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







