مار ڈالوں گا اسے خود بھی میں مر جاؤں گا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمار ڈالوں گا اسے خود بھی میں مر جاؤں گا
دل میں اترا نہیں مٹی میں اتر جاؤں گا
پھر مری موت شہادت یا کہیں لوگ حرام
عشق کی لاج تو رکھ جاؤں گا مر جاؤں گا
میرا حق ہے کہ اسے کوئ سزا دوں میں بھی
جس نے سوچا کہ اکیلے میں سنور جاؤں گا
یاد رکھیں گے ہمیشہ مجھے دنیا والے
میں جو قائم کبھی مثل ایسی ہی کر جاؤں گا
اپنا گھر جس کلۓ چھوڑ دیا تھا میں نے
اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ کدھر جاؤں گا
اس نے آنا ہی نہیں لوٹ کے میری جانب
چاہے میں ٹوٹ کے جتنا بھی بکھر جاؤں گا
جس طرح میں نے محبت میں کٹھن راہیں چلیں
ایک دن ہجر کا بھی کاٹ سفر جاؤں گا
میرے احباب کبھی بھول نہ پائیں گے مجھے
میں جو ہر چیز میں چھوڑ اپنا اثر جاؤں گا
وہ سمندر ہے تو اپنے لیۓ ہو گا باقرؔ
میں وہ دریا نہیں موجوں سے جو ڈر جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






