جو سرور تھا جو سکون تھا کبھی پیار میں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiجو سرور تھا جو سکون تھا کبھی پیار میں
وہ نہ مل سکا کہیں چین میں نہ قرار میں
یونہی زندگی نہ پھنسی دکھوں کے مدار میں
کبھی چار دن تھے گزارے کوچہء یار میں
میں ازل سے مٹی تھا مٹی کے ہوں مدار میں
مجھے یوں بھی ملتا ہے چین گرد و غبار میں
میری عمر گزری جو ہجر میں غم و درد میں
مجھے عار کیسے ہو بعد مرگ مزار میں
تبھی مبتلا ہوں میں رتجگوں کے عذاب میں
کئ دن گزارے ہیں الفتوں کی بہار میں
جسے روز آ کے ملے خدا کوہ طور پر
کرے کیوں بھلا وہ عبادتیں کسی غار میں
میرے قاتلوں کا خطا گیا جو ہر ایک وار
کسی پاک ہستی کی ہوں دعا کے حصار میں
مجھے پیار مل نہ سکا کبھی مجھے غم نہیں
مجھے فخر ہے کہ ہوں غم زدوں کے شمار میں
وہ جو باقرؔ ایسی ہی چھوڑ کر مجھے چل دیا
یہ بتا تو دیتا کمی تھی کیا مرے پیار میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






