لوگ اس طرح میرے دل میں چلے آتےہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamدل میں ہائیں ہیں آنکھوں میں نالے ہیں
ہمیں نہ ستاؤ ہم تمہارے چاہنے والے ہیں
محبتوں بھرے خط جو لکھے تھے تم نے
وہ اپنی جان کی طرح ہم نے سنبھالے ہیں
کبھی وصل ہوا تو دکھائیں گے تمہیں
ہمارے دل میں ہجر کے جتنے چھالے ہیں
انجانے میں آپ سے پیار کر بیٹھے
کیا علم تھا کے آپ دل کے کالے ہیں
ہم نے تو جس کسی کو دوست جانا ہے
اسی نے ہمارے لیے نفرتوں کے ناگ پالے ہیں
آخری دم تو آ کے مل جاؤ اصغر سے
یوں لگتا ہے ہم دنیا سے جانے والے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






