جو بن کر آنکھ میں ڈوبا رواں سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہوئے آسان یہ جیون کہاں سے
یہ کس احساس کو دیکھا عیاں سے
جو اک طوفاں ہے اپنی خامشی میں
جو بن کر آنکھ میں ڈوبا رواں سے
اک اس کی ہی کمی رہتی ہے ورنہ
جو آ نکلا کبھی اس کا جہاں سے
سناؤں کیا میں اپنے غم کے قصے
تمہارے وعدے اب خطرہ دھواں سے
مجھے معلوم ہے رستہ تمہارا
غموں کا دیکھ کر یہ آسماں سے
ہمارا انتظار اب بھی ہے قائم
ابھر آتا ہے دل سویا بیاں سے
ہماری آنکھ میں ہے حسرتِ دید
میں وحشت لے چلی صحرا جواں ہو
اتر کر دل کے آئینوں میں وشمہ
کہیں جھونکا ہوا کا یہ سماں سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






