طے ہوئی مسافت
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiطے مسافت ہوئی قدر دانی کے ساتھ
بڑھ گیا ہے کرایہ گرانی کے ساتھ
راستے میں پڑا تھا ملا ہے مجھے
جس کا ہو پرس لے لے نشانی کے ساتھ
اب ضرورت پڑی پاس کچھ بھی نہیں
قرض دے دو مرا مہربانی کے ساتھ
روز الزام لگتے ہیں کہتی ہے وہ
اب تعلق ہے تیرا فلانی کے ساتھ
سوز ہجراں میں تنہا نہیں رہ سکا
وہ لگا رونے آہ و فغانی کے ساتھ
طنطنہ عشق میں اچھا لگتا نہیں
اپنے بدلو نہج گل فشانی کے ساتھ
کام اپنے سے مالی تو واقف نہیں
ہونا اچھا نہیں باغبانی کے ساتھ
کوئی ہوئی غلط فہمی مرشد تمہیں
کوئی چکر نہیں ہے دوانی کے ساتھ
آج شہزاد موجود ہم میں نہیں
مر گیا وہ قضائے گہانی کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






