تھا میں گناہ گار
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiتھا میں گناہ گار گناہوں سے ڈر گیا
ناکردہ تھیں جو اپنی خطاؤں سے ڈر گیا
منظر وہاں جو دیکھا قیامت سے کم نہیں
تھیں سسکیاں بلاں کی سزاؤں سے ڈر گیا
فریاد کر رہا تھا بچا لے مجھے کوئی
آواز آ رہی تھی صداؤں سے ڈر گیا
نکلا نہیں تھا تنہا کبھی اپنے گھر سے میں
تھا ہر طرف اندھیرا بلاؤں سے ڈر گیا
لگتا غریب گھر سے تھا جب دیکھا غور سے
پاؤں میں تھا جو اس کے کھڑاؤں سے ڈر گیا
سچ بولنے کی دی ہے سزا جو امیر نے
ہوئے وہاں تھے ظلم جفاؤں سے ڈر گیا
شہزاد تیر نظروں کے ایسے چلے وہاں
چنچل تھی ان کی شوخ اداؤں سے ڈر گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






