رنگ دیدوں، تو وہ تصویر بنا لو گے میاں ؟
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAاب تو ہونی ہے تو ہونی کو بھی ٹالو گے میاں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو مٹا لو گے میاں
وہ جو مدت سے منقش ہے خیالوں میں مرے
رنگ دیدوں، تو وہ تصویر بنا لو گے میاں ؟
آج حق بات کا پرچار تو کرتے ہو بہت
کل اٹھانا پڑی شمشیر ، اٹھالو گے میاں ؟
ہاتھ پہ اپنے ، کلیجے کو سجا لائے ہو
تم تو روٹھے ہوئے سیاں کو منا لو گے میاں
آسماں کیسے نہ پھر آپ کے تابع ہوگا
جب ستاروں پہ کمند آپ ہی ڈالو گے میاں
تم چھپا کر بڑا پن تو دکھا سکتے ہو
ایک الزام کو تم کتنا اُچھالو گے میاں
یاد منہ زور خیالوں سے بھرا ریلا ہے
کیسے موجوں کو سمندر سے نکالو گے میاں
کیسے تعبیر کی صورت میں ڈھلا ہے مفتی
تم تو کہتے تھے کہ یہ خواب چھپا لو گے میاں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






