دشمن کی مرے اتنی تو اوقات نہیں ہے
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAتنہا ہے اکیلا ہے ، کوئی ساتھ نہیں ہے
یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی بات نہیں ہے
میں قتل ہوا ہوں تو کسی اپنے کے ہاتھوں
دشمن کی مرے اتنی تو اوقات نہیں ہے
یہ آنکھ بھی اب آنکھ ملاتی نہیں مجھ سے
مدت ہوئی دل سے بھی مری بات نہیں ہے
دنیا کو مری رخصت ِ دنیا کی خبر ہے
حیرت ہے کہ تو واقف حالات نہیں ہے
یہ دوستی برسوں کے تعلق کا ثمر ہے
یہ کوئی اچانک کی ملاقات نہیں ہے
ہم داعی ء الفت ہیں پیمبر ہیں وفا کے
ہم لوگوں کو اندیشہ ء خطرات نہیں ہے
خود ارض و سماوات کی منزل ہے تُو انساں
منزل تری ارض و سماوات نہیں ہے
اک وقت تھا یہ چاند بھی چلتا تھا مرے ساتھ
اب حال یہ ہے سایہ تلک ساتھ نہیں ہے
فتوی بھی تو دیتا نہیں وہ شعر و ادب میں
مفتی ہے مگر مرد ِ کرامات نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






