دل لگی، مے کشی، عاشقی،اب نہیں
Poet: Qasim Baba By: Qasim Baba, Slough Londonدل لگی، مے کشی، عاشقی،اب نہیں
پہلے تھی جو کبھی زندگی اب نہیں
تھے کبھی راستے خوشبوؤں سے بھرے
سنگِ مر مر سے راہیں سجی اب نہیں
شہرِ خوُباں کی وہ دلکشی اب نہیں
وصل کی چاہ میں وہ خوشی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا رات ڈھلتی نہ تھی
اُس کی آنکھوں میں وہ روشنی اب نہیں
اُس کے ہاتھوں کی ریکھائیں کیسے پڑھیں
میرے پہلو میں وہ بیٹھتی اب نہیں
بَن کے مہماں صبا ٹھہرتی اب نہیں
میرے آنگن میں وہ چاندنی اب نہیں
جس کو دیکھے بِنا پھول کھِلتے نہ تھے
اُس کے چہرے پہ وہ تازگی اب نہیں
اب کے مل جاۓ شاید نشانِ وصل
نا خداؤں سے جو دوستی اب نہیں
نوجوانی کا قاسم عجب دور تھا
ہاں مگر زندگی، زندگی اب نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






