Zara Thehra Jo Safar Mai
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiZara Thehra Jo Safar Mai To Patthar Kare Gila
Jaldi Jo Paai Manzil To Muqaddar Kare Gila
Piyaasa tha To Do Boond Matke Se Pee Gaya
Matke Se Jo Peeya Paani To Samandar Kare Gila
Main Shok Shok Mai Kha Gaya Zahar Bhi Janaab Se
Ab Unke Haath Mai Rakha Khanjar Kare Gila
Ghar Baar Chodd Chaad Ke Futhpaath Pe Li Neend
Soya Tha Jiske Niche Wo Ambar Kare Gila
Mehfil Mai They Haseen Bohat Hum Sabse Mil Liye
Tha Apna Jo Kareeb Wo Dilbar Kare Gila
Tayyar kiya Foj Ko Jang-e-Medaan Ke Liye
Ho Gayi ittefaaq sulha Lashkar Kare Gila
Soya Tha Unke Khaab Sajakar Nighah Mai
Phele Jo Thode Paon To Chadar Kare Gila
Mushkil Ye Aa Padi Hai "ShamS" Thamon Main Kiska Haath
Rehjan Ke Sang Jaaon To Rehbar Kare Gila
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






